کیا امیروں کی غلامی سے جان چُھٹ سکے گی ؟

کیا امیروں کی غلامی سے جان چُھٹ سکے گی ؟

اس وقت پوری دنیا میں یہ سوال اُٹھایا جا رہا ہے ۔ اسی سوال نے امیروں کو پریشان کیا ہوا ہے ، ان کی نیندیں حرام کی ہوئ ہیں ۔ Brexit , Trump

Trump

اور جرمنی اور فرانس میں قومیت پرست انتہا دائیں بازو کی تنظیموں کا جیتنا اس کی نشاندہی کرتا ہے ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہ سارے امیر لوگ ہیں جو ان تحریکوں کے پیچھے ہیں ۔ ان کو ڈر ہے کہ کوئ اور کارل مارکس نہ پیدا ہو جائے ۔

ڈٹرٹے اور چین کے صدر نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ۔ ہندوستان میں کیمینسٹوں نے ان کے حکمرانوں کو پاکستان سے زیادہ پریشان کیا ہوا ہے ۔
ہمارے پاکستان کے امیر بھی پریشان ہیں ایک کتاب لے آئے ہندوستان کے ساتھ دوستی کے لیے ۔

نواز شریف کو لیڈر اپنا بنا لیا ۔ کالا دھن اربوں کھربوں میں ہے ۔ بوریوں کے منہ کھول دیے ۔

میں اگلے دن چند دوستوں کے ساتھ نیو جرسی کے ایک ریسٹورنٹ میں بیٹھا تھا ۔ ایک سردار جی مل گئے ، میں نے پوچھا ‘سردار جی کتھوں او ؟ وہ بولے ‘ہندوستان تو ‘ میں نے پھر کہا ‘کیڑی جگہ ؟’ بولے ‘ہوشیار پور ‘

میں ایک دم اُٹھا گلے ملا اور کہا ‘میرے ابا جی وی ہو شیارپور تو سن، پہاڑی علاقہ اے ناں؟’ کہتا جی ، اور پوچھنے لگا ‘جاندے ہوندے او ہوشیارپور؟’ میں نے کہا “مویا جانا اے ، اگے تواڈی پُلس کھڑی آ ، پھڑن لئ، ہُن ایک پاکستانی جرنیل نے کتاب لخی اے کے کٹھے ہو جاہیے” سردار نے کہا ‘ہن سانوں کی ، آپا تے ۳۰ سال تو امریکہ آں”

اپنے نواسے کو گود میں لیا اور چل دیا ۔
واپس آ کر میں نے کتاب کے باقی ۱۵۰ صفحے بھی پڑھ مارے کہ چلو شاید ہوشیارپور جانا ممکن ہو جائے ۔ اپنے آباؤ اجداد کی دھرتی کو چوُم آؤں۔
جو سو صفحے کی غلاظت دو دن پہلے پڑھی تھی ، اس سے دس گنا اگلے ۱۵۰ صفحے میں ۔ وہی شرابوں اور راتوں کی باتیں۔ بنکاک اور کٹھمنڈو کے ہوٹلوں میںhandler’s paid اجلاس ۔

درانی صاحب نے مزید پاکستان کو رگیدا ۔ اوسامہ کو پکڑوا نے میں پیسہ کی بات کی ۔ اپنی استادیوں کا تزکرہ کیا ۔
کلبوشن کو چھوڑنے کی اُمید ظاہر کی ۔

عجیب حالات ہیں ، توُ ماما لگتا ہے کلبوشن کا ؟ ہمارے حافضہ بہت کمزور ہیں ، جب سرجیت سنگھ کو ۳۰ سال قید کے بعد ۲۰۱۲ میں چھوڑا تھا تو اس نے باڈر پار کرتے ہی بکنا شروع کر دیا ، کہ میں تو انڈیا کا جاسوس تھا ۔ ہندوستانی حکومت نے کہا سرُجیت نمبر بنا رہا ہے ۔ لیکن جب BBC کی گییتا پانڈے اس کے گاؤں گئ اور اسے کٹہرے میں بٹھایا ۔

اس نے پھر کہا، اگر میں جاسوس نہیں تھا تو حکومت پینشن کیوں میرے گھر دیتی تھی ؟ میں ۸۵ دفعہ پاکستان گیا ۔ اس نے کہا کہ وہ بلکہ پاکستان کے لیے جاسوس بھرتی میں ہندوستان حکومت کی مدد کرتا تھا ۔ دلت سے درانی نے اس کے بارے میں کیوں نہیں پوچھا اور اور کٹھمنڈو سے غیب ہونے والے پاکستانی کرنل کا کھوج کیوں نہیں نکالا ؟
ہندو بڑا شاطر ہے اور مسلمان بکاؤ۔ کدھر جائیں ۔ امریکہ میں بھی اسی طرح میں ان دونوں کو پایا ۔ ہمارا تو اب امریکہ میں ایمبیسڈر

ٹرمپ کے داماد کا دوست آ رہا ہے ۔ ہندوستان توڑنے کا فیصلہ شرابوں پر لندن میں ہوا تھا ، کیا اب جوڑنے کا فیصلہ واشنگٹن میں ہو گا ؟ ایسا کبھی نہیں ہو گا ۔ بہت دیر کر دی مہربان آتے آتے ۔
مسئلہ سارا امیروں کے کلب کو آگ لگانے کا ہے ۔ انہی کے چمچے کڑچھے اب نگران سیٹ آپ میں آ رہے ہیں ۔ باجوہ صاحب دل کے اچھے سادہ سے آدمی ہیں ان کی اصل شطرنج کے کھلاڑی

کبھی کسی کتاب کی ضد میں آ جاتے ہیں کبھی سائرل المیڈا جیسے میراثیوں سے ڈر جاتے ہیں ۔
عوام کو اُٹھنا پڑے گا ۔ سوشل میڈیا ایک بہت بڑی فورس ہے ۔ میرے کل کے بلاگ پر ایک میری مداح لاہور سے کہ رہی تھی آپ anti gravity جا سکتے ہیں ۔ میں نے کہا کاش حضور صلعم نے جب چاند کے دو ٹکرے کیے تھے

تو اسے زمین اور سورج سے بلکل باہر نکال پھینکتے ہم سارے کشش ثقل سے باہر آ جاتے ۔ تمام مصیبتوں سے آزاد ۔ اُس نے کہا اس پر بلاگ لکھو، میں نے کہا مولوی قتل کر دے گا ۔ کہتی تم بھی ڈرتے ہو ؟ میں نے کہا ہر عقل رکھنے والا ڈرپوک ہوتا ہے بس درجہ کا فرق ہوتا ہے ۔
میرے عزیز پاکستانیوں اگر اس سرکس کو بند کرنا ہے تو ہمیں سب کو اُٹھنا ہو گا ۔ قمر جاوید باجوہ یا ثاقب نثار

اکیلے کچھ نہیں کر سکیں گے ۔ کیونکہ یہ ہمارا استحصال امیر کے ہاتھوں ہو رہا ہے جس کے پاس بے پناہ پیسہ ہے ۔ ہر انسان کی اُس نے قیمت لگائ ہوئ ہے ۔ اسی لیے تو فقیر قیمت کے کھیل سے باہر آ گیا سرکار ی نوکری کیا اپنا سکون بھی داؤ پر لگا دیا ۔ امیروں میں اتحاد ہے ۔ ہم بکھرے ہوئے ہیں ۔ آؤ کسی پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوتے ہیں ۔

عزت کی زندگی کی بات کرتے ہیں ۔ پیار محبت کے گانے گاتے ہیں ۔ زندگی کے مزے لیتے ہیں ۔ روحانیت کے رقص میں مدہوش ہو جاتے ہیں ۔
خوش رہیں ۔ پاکستان پائندہ باد
نزر محمد چوہان
نیو جرسی / امریکہ
مئ ۲۸ ، ۲۰۱۸

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *