فاٹا بل 31 ویں آئینی ترمیم

‎فاٹا ترمیمی بل
‎( اکتیسویں آئینی ترمیم )
‎کا شق وار جائزہ

فاٹا بل کی پہلی شق میں بل کا نام اور تعارف دیا گیا ہے۔
‎بل کی دوسری شق میں آئین کے آرٹیکل (1) میں ترمیم تجویز کی گئی ہے جس کی رو سے آئین سے فاٹا کا لفظ ہمیشہ کے لیے نکل جائے گا۔ گویا اس کے بعد فاٹا الگ اکائی نہیں رہے گا بلکہ خیبر پختونخوا صوبے کا آئینی حصہ بن جائے گا۔
‎بل کی تیسری شق میں آئین کے آرٹیکل (51) میں ترمیم تجویز کی گئی ہے جس کی رو سے فاٹا کے پختونخوا کے ساتھ انضمام کی صورت میں قومی اسمبلی کے کل حلقوں کا ازسرنو تعین کیا گیا ہے۔ اس شق میں ساتھ ہی یہ آئینی ضمانت دی گئی ہے کہ آئندہ انتخابات میں سابقہ تعداد کے حساب سے فاٹا سے قومی اسمبلی کے ممبران منتخب ہوں گے تاہم اس اسمبلی کی تکمیل کے بعد فاٹا کو بھی خیبرپختونخوا کے ایک حصے کے طور پر قومی اسمبلی کے حلقے الاٹ ہو جائیں گے۔
‎بل کی شق نمبر (4) میں آئین کے آرٹیکل (59) میں ترمیم تجویز کی گئی ہے جس کی رو سے انضمام کی صورت میں سینیٹ کے اراکین کی تعداد کا ازسرنو تعین ہوگا تاہم یہاں پر ایک بار پھر یہ آئینی ضمانت دی گئی ہے کہ فاٹا کے کوٹے پر منتخب ہونے والے موجودہ سینیٹرز اپنی مدت پوری کریں گے۔
‎فاٹا ترمیمی بل کی شق نمبر (5) کی رو سے آئین کے آرٹیکل (62) سے فاٹا کا لفظ نکالا جائے گا۔
‎بل کی شق نمبر (6) کی رو سے آئین کے آرٹیکل (102) میں ترمیم کرکے خیبرپختونخوا اسمبلی کی نشستوں کی تعداد بڑھادی گئی ہے۔ اس میں فاٹا کے ممبران صوبائی اسمبلی کو بھی شامل کردیا گیا ہے۔ ساتھ ہی یہ شرط لگا دی گئی ہے کہ خیبر پختونخوا کی اسمبلی کے لیے فاٹا میں انتخابات ایک سال کے اندر کروائے جائیں گے۔
‎بل کی شق (7) کے ذریعے آئین کے آرٹیکل (155) میں پانی اور وسائل کی تقسیم وغیرہ کے حوالے سے فاٹا کے لفظ کو نکال دیا گیا ہے۔
‎آئینی ترمیم کی شق (8) کے تحت آئین کے آرٹیکل (246) اور بعد ازاں آرٹیکل (247) میں ترمیم کی گئی ہے۔ اسی شق کے ذریعے آرٹیکل (246) سے فاٹا اور فرنٹیر ریجنز کو نکال دیا گیا ہے اور ساتھ ہی یہ وضاحت کی گئی ہے کہ صوبائی اسمبلی کے انتخابات کے بعد انتظام ایوان صدر سے صوبائی انتظامیہ کی طرف منتقل ہوجائے گا۔
‎فاٹا ترمیمی بل کی شق (9) کے تحت آئین کے آرٹیکل (247) سے بھی فاٹا کا ذکر نکال دیا گیا ہے۔
‎بل، آئین کا حصہ بن گیا تو کیا ہوگا؟
‎فاٹا انضمام بل کے اہم نکات ملک کے انتخابی اور سیاسی نظام پر پوری طرح اثر انداز ہوں گے۔
‎فاٹا ترمیمی بل کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی میں فاٹا کی نشتیں 12 سے کم ہوکر 6 ہوجائیں گی۔
‎خیبر پختونخواہ کا قومی اسمبلی میں موجودہ حصہ 39 سے بڑھ کر 45 نشستیں ہو جائے گا۔
‎سینیٹ میں فاٹا کی موجودہ 8 نشتیں ختم ہوجائیں گی۔
‎سینیٹ اراکین کی کل تعداد 104 سے کم ہو کر 96 ہوجائے گی۔
‎قومی اسمبلی کے ارکان کی کل تعداد 342 سے کم ہوکر 336 ہوجائے گی۔
‎ملک میں براہ راست انتخاب 272 کے بجائے 266 حلقوں پر ہوگا۔
‎قومی اسمبلی میں 266 عام نشستیں، 60 خواتین کی جبکہ 10 اقلیتوں کی نشتیں ہوں گی۔
‎2018 کےعام انتخابات پرانی تقسیم کے تحت ہی ہوں گے۔
‎قومی اسمبلی میں نشستوں کی تقسیم کا 31 ویں آئینی ترمیم کے تحت نیا فارمولا 2023 کے عام انتخابات سے لاگو ہوگا۔
‎2015 اور 2018 کے سینیٹ انتخابات کے منتخب 8 سینیٹ اراکین اپنی مدت پوری کریں گے۔
‎2018 عام انتخابات میں فاٹا قومی اسمبلی کے 12 رکن بھی اپنی مدت پوری کریں گے۔
‎2018 عام انتخابات کے ایک سال کے اندر فاٹا میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات ہوں گے۔
‎فاٹا انضمام کے بعد خیبر پختونخواہ اسمبلی کے اراکین کی تعداد 124 سے بڑھ کر 145 ہوجائے گی۔
‎صوبائی اسمبلی خیبر پختونخواہ میں فاٹا کا حصہ 16 عام نشستیں، خواتین کی 4 نشستیں اور 1 اقلیتی نشست ہوگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *