ُُپیار کو پیار ہی رہنے دو کوئی نام نہ دو

پیار کو پیار ہی رہنے دو کوئ نام نہ دو۔

یہ ہیں گانے کے بول جو لتامنگیشکر نے گایا تھا، جب ہم بچے تھے ۔ تب سمجھ نہیں تھی ۔ گانا صرف محبوب کے لیے یا دل کو بہلانے کے لیے گنگناتے تھے ۔ اب جب سمجھ آئ جانا کہ کیا کمال کہ اس گانے کے بول تھے ۔ کیا روحانی فلسفہ تھا ۔ آج جب بلاگ لکھنے لگا تو نجانے کہاں سے ایک دم زہن میں آیا اور سوچا آج کا موضوع اسی میں سمو دوں ۔
یہ ساری کائنات روحوں کے نزدیک صرف اور صرف پیار کا کھیل ہے ۔ محبت کی لگن اور جستجو ہے ۔ ہم سارے اس محبت کی لڑی کی آکائ میں پروئے ہوئے ہیں ، درخت ، پہاڑ ، سمندر ، پرند اور چرند ۔ تمام خوشیوں کا جادو اور پھولوں کی مہک اس پیار میں ہی پنہا ہے


۔ آج صبح پارک چھوڑنے کو دل نہیں کر رہا تھا ، کیا خوشبو ، کیا سبزہ ، ایک ایسی جنت جس کا مولویوں نے بھی نہ سوچا ہو گا ۔
ہچھلے دنوں یہاں ایک گورے امریکی وکیل نے ایک گیس اسٹیشن پر چند ہسپانوی ملازمین کو للکار دیا اور کہا کہ انگریزی کیوں نہیں بول رہے ۔ لگتا ہے تم لوگ امریکہ میں غیر قانونی طور پر مقیم ہو ۔ فورا ہی اس نے ICE کو Immigration& Customs Enforcement کو طلب کر لیا ۔ یہ وہ فورس ہے جو غیر قانونی طور پر مقیم لوگوں کو امریکہ سے نکالنے میں اوبامہ کے دور سے معمور ہے ۔ پتہ لگا وہ سارے ملازمین غیر قانونی نہیں تھے ۔ پوری ہسپانوی کیموینیٹی متحد ہو گئ اس وکیل کے خلاف ، ایک انوکھا قسم کا احتجاج کیا ۔ اس کے گھر کے سامنے اس کے racist ہونے پر سینکڑوں ہسپانوی اکٹھے ہو گئے ۔ ہسپانوی لوگوں کا ایک بہت مشہور امریکہ میں بینڈ ہے جسے Mariachi کہتے ہیں ۔ انہوں نے وہاںMariachi پارٹی کا اہتمام کیا ۔ کوئ سو لوگوں کے لیے فری کھانا اور امریکہ کے ٹاپ بینڈ کو سننے کا مزہ الگ ۔ ایک عجیب و غریب بھائ چارے کی فضا قائم کر دی ۔
آخر کار ساری گوری کیمیونٹی اور وکیل کو معافی تلافی ، منتیں اور ترلے کرنے پڑے ۔ اسے کہتے ہیں احتجاج ، انسانی جزبات کو ٹھیس پہنچانے کے خلاف رد عمل۔ پاکستان میں مولوی کافر کہ کر کہتا ہے ‘اگ لا دیو’ زندہ جلا دیو ، وغیرہ وغیرہ ۔
کل مجھ سے ایک خاتون پوچھ رہی تھیں جنگیں کیوں ہوتی ہیں ۔ میرا سادہ سا جواب تھا ‘طاقت’ دکھانے کا مظاہرہ ۔
پیار اور محبت کا اُلٹ جنگیں اور نفرت ہیں ۔ جن کا نتیجہ سوائے خود اپنی بربادی کہ کچھ نہیں نکلتا ۔ انسانیت کے ساتھ ظلم ۔ کبھی نہ معاف ہونے والا معاملہ ہر اس شخص اور قوم نے بھگتا جس نے اس طرح کی زیادتیاں کیں، تاریخ گواہ ہے ۔
جو معرکہ پیار اور محبت سے جیتا جا سکتا ہے جنگوں سے نہیں ۔ آخر برلن کی دیوار بات چیت سے گری

، شمالی کوریا اور جنوبی کوریا کا مسئلہ بات چیت سے حل ہوا ۔ نفرتوں سے جان چھڑائیں گے تو قدرت کے نظاروں کا بھرپور مزہ لے سکیں گے اور زندگی کو حسین و جمیل بنا سکیں گے ۔

“صرف احساس ہے یہ روح سے محسوس کرو
پیار کو پیار ہی رہنے دو کوئ نام نہ دو”

بہت خوش رہیں ۔ رمضان کا مہینہ ہے اپنے ارد گرد پیار اور محبت کی فضا سے ماحول کو منور رکھیں خوشیاں بانٹیں ۔ دشمن کو بھی معاف کر دیں ۔ یہی جنت ہے یہی آنکھوں کی مہکتی خوشبو ہے ۔
نزر محمد چوہان
نیوجرسی / امریکہ
مئ ۲۲، ۲۰۱۸

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *