قدرت کی رضا کے مطابق زندگی گزاریں

قدرت کی رضا کے مطابق زندگی گزاریں ۔

پچھلے دنوں میں نے ایک اور امریکہ کہ مشہور روحانی شخصیت Matt Kahn کی کتاب ;
Every thing is here to help you
پڑھی ۔

یقین کریں میں یہاں کوئ سو سے زیادہ امریکی روحانی شخصیات کی کتابیں اور مکالمات پڑھ چُکا ہوں ۔ مجھے اس کتاب نے جتنی توانائ بخشی میرے پاس الفاظ نہیں بیان کرنے کے ۔ Matt Kahn کا فلسفہ اور نظریہ زندگی گزارنے کا ، سو فیصد اسلام اور ہمارے پیارے نبی کے فلسفہ سے ملتا جُلتا ہے ۔
میں ہمیشہ کہتا ہوں ہماری یہاں زندگیاں مسرتوں کی برسات ہے ۔ ہر دنیا کی چیز ، درخت ، دریا ،

پہاڑ ، صحرا ، پرند اور چرند ہمیں سکون اور خوشیوں پہنچانے کے لیے ہیں ۔ آئیں اس بہاؤ میں ڈوب جائیں ۔ آج میں رُوزویلٹ پارک کا لُطف نہیں لے سکا بہت شدید بارش ہو رہی ہے ،

لیکن اپنی برساتی جیکٹ پہن کر کوئ دو میل پیدل چل کر بارش میں کپڑوں سمیت نہانے کا لطف لیا ۔ کیا ماحول تھا، کیا سمع تھا ۔ میری روح کی دُھلائ ہو گئ ۔
میٹ لکھتا ہے کہ ہم کس طرح اپنے جسم ، زہن ، روح اور دل کو یکجا کر کے ، کائنات کی source کے ساتھ اگر مل جائیں تو پھر دیکھیں مزہ قدرت کا ۔ جتنا بھی ہم دوسرے شخص کی روحانیت کو قدر اور قربت دیں گے اتنا ہماری اپنی روح اُجاگر ہو گی ۔ ہم ایک دوسرے کا اور کائنات کی ہر چیز ہمارا آئینہ ہے ۔

کہتا ہے ؛
Life purpose isn’t necessarily the role we play , but the specific way we choose to respond for the well-being of all..
کیا زبردست بات کہ دی ۔ کمال کی خوبصورتی اس بیانیہ میں ۔ ہم تو بلکل بھولے ہوئے ہیں اس فلسفہ سے ۔ بھٹکے ہوئے ہیں ۔
پاکستانیوں کو ہی لے لیں ، ہمارا صرف ایک ہی مسئلہ ہے ہر ایک کو چوہدری بننے کا شوق ہے ،

اپنی ٹیں جمانے کی جنگ ، بادشاہت کا دعوی ۔
اسد درانی صاحب فرماتے ہیں کہ ایک تقریب میں ، وہ اور ڈاکٹر قدیر اکٹھے باہر پارکنگ میں آئے

تو ڈاکٹر صاحب کی کار کے لیے اناؤنس ہوا کہ فضلو کی کار کا ڈرائیور آ جائے ۔ کہتے ہیں میں نے کہا ڈاکٹر آپ ایسی تقریبات پر آیا ہی نہ کریں لیکن درانی صاحب کے نزدیک ڈاکٹر صاحب کو self projection کا بہت شوق ہے ۔ تو جناب درانی صاحب آپ اس چیز سے پاک ہیں ؟ آپ نے تو ان واقعات پر کتاب لکھ ماری

ہندوؤں کے ساتھ مل کر جن کہ آپ privy نہیں تھے ۔ یہ نا انصافی ہے ۔ پچھلے بیس سالوں سے چوڑے ہو کر آپ شام کو ٹی وی کے پرائم ٹائم پر دفاعی تجزیہ نگار بن کر اپنی رائے جھاڑ رہے ہوتے ہیں ۔ وہ شو بازی کا شوق نہیں تو کیا ہے ۔
اب آپ پر پوری قوم ٹوٹ پڑی تو آپ معصوم بن رہے ہیں ، بھلا ہو ہمارے دوست کلاسرا صاحب

کا جس نے آپ کو سقراط کے ساتھ ملا دیا ، وگرنہ عوام آپ کو کچا کھا جاتے ، کیونکہ آپ تو اس کٹہرے میں ننگے کھڑے ہیں ۔

سقراط نے جس سچ کے لیے زہر پی لیا آپ نے تو وہ آج تک نہیں بتایا کہ ISI نے IJI
کیوں بنائ بینظیر کا تختہ الٹنے کے لیے ؟ آپ نے سیاست دانوں کو ہیسے کیوں بانٹے ؟

میں تو خیر ارسطو اور سقراط کا مداح نہیں ہوں کیوں کہ ساری conditioning ہمارے دماغ کی ان فلاسفروں نے کی جس میں آج تک ہم پھنسے ہوئے ہیں ۔ وہی لوگ زہنی غلامی کے موجد ہیں ۔

میرا ہیرو تو انہی وقتوں کا کردار Diogenes ہے جو ننگا پھرتا تھا دن کو ہاتھ میں چراغ پکڑ کر کہ شاید کوئ عقل مند مل جائے ، افلاطون کو للکارتا تھا ۔

مجھے اس سے ، پاکستانی تماشے کا ایک اور کردار یاد آ گیا میٹ کاہن کی کتاب کے حوالے سے ۔ مشاہد اور اس کی اہلیہ دُشکہ ۔

۱۹۸۴ میں ضیا الحق نے مشاہد کو کلدیپ نیّر

سے ملوایا کہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت پر زرا بھونکو ۔ مشاہد بھونکنے میں تو ایک اچھا کتا ہے ، صرف کتوں کی اصلی وفاداری والی خوبی پسند نہیں ۔ لو جی مشاہد صاحب کی لاٹری لگ گئ ۔ پھر چل سو چل ، مشاہد نے ہر آنے والے حکمران کے تلوے چاٹے ۔ کمال کا چاٹا ۔ ملا کچھ نہیں ۔ کیونکہ قدرت کا مشاہد کے لیے پلان مختلف تھا ، کیونکہ وہ قدرت کے خلاف جا رہا تھا ۔ اب بھی میرے زرائع کے مطابق نواز لیگ کی طرف سے نگران سیٹ اپ میں وزیر خارجہ بننے کا شوق انہیں کتا بنا رہا ہے ۔ دفعہ کریں ان ہلکہ لوگوں کو ، دوبارہ آتے ہیں کاہن کی اس کتاب پر ، ایک اور اقتباس ؛
Eternal truth of the new spiritual paradigm is that such truth dances through out the ups and down of every day life , reminding you that no matter how any thing seems or appears – every thing is here to help you become the one you were born to be ..
لیں جی ، یہ بیانیہ اس کتاب کی معراج ہے ۔ روح ہے ۔ وہی علم لدُنی والا معاملہ ۔ سورہ کعف کے واقعات والی حکمت ۔

یہ ہے کائنات کا سچ ۔ چاہے جو مرضی اچھا بُرا وقت آ جائے ، یہ قدرت کی آکائ کا رقص اور ہر تنکا ہمارے فائیدے اور اس مقصد کی طرف سفر ہے جس کے لیے ہم اس دنیا میں پیدا ہوئے ۔ ڈائجنیز نے یہی کہا تھا سکندر سے ، اور پوچھا کہ دنیا فتح کر کے کیا حاصل کرو گے ؟ تم تو اپنے گھر زندہ نہیں پہنچتے مجھے دِکھائ دیتے ۔
سکندر اعظم نے کہا میں تجھے گھر زندہ پہنچ کہ دکھاتا ہوں ، تیری ایسی کی تیسی ۔ راستے میں ہی مر گیا ۔

میٹ کاہن نے اس کتاب میں جو مشقیں بتائ ہیں وہ صرف اور صرف شکر گزاری اور دوسروں کو معاف کرنے کی ہیں ۔ پھر کمال دیکھیں قدرت کی اپنے پر بہاروں کا ۔ میٹ کاہن کے یو ٹیوب چینل پر ۹ ملین ویورز ہیں ۔

چھوڑیں یہ جعلی انا کو ، غرور کو ، مال و دولت اور طاقت کے شوق کو ، بارش میں نہائیں ۔ گھاس پر لیٹ کر زمین کے ساتھ ایک ہو جائیں ۔ gravity کے مخالف چلے جائیں ۔ امریکہ کی ٹیسلا کمپنی کا مالک

تو کہتا ہے کہ ہم سارے virtual beings ہیں ۔ ٹھیک کہتا ہے ہماری holographic موجودگی تو ہر جگہ ہے ۔

بہت خوش رہیں اس کائنات کے رقص میں خوش و خرم زندگیاں گزاریں ، بہت مزہ آئے گا ۔

نزر محمد چوہان
نیو جرسی / امریکہ
مئ ۲۷ ، ۲۰۱۸

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *